فقراساسِ اسلام | Faqr Asas e Islam

فقر اساسِ اسلام 

تحریر: عرشیہ خان سروری قادری ۔لاہور

لفظ اسلام سے اگر یورپ کو کِد ہے تو خیر
دوسرا نام اسی دین کا ہے فقرِ غیور

علامہ اقبالؒ نے مندرجہ بالا شعر میں واضح طور پر فرما دیا کہ اگر یورپ کو اسلام کے نام سے دشمنی ہے تو اسلام کا دوسرا نام فقر ہے اور یہی اصل اسلام ہے۔
فقر کیا ہے؟فقر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حقیقی ورثہ ہے۔ اس کی ابتدا بھی شریعت ہے اور انتہا بھی شریعت ہے۔

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
 پختہ مردِ کامل وہ ہے جو ہر حال میں شریعت سے باہر قدم نہ رکھے چاہے وہ وقتِ الست سے ہی صاحب ِ سِرّ اسرار ہو یا سکر و مستی، قبض و بسط میں ہو یا عشق و محبت میں غرق ہو۔ اگروہ شریعت سے باہر قدم رکھے گا تو اس کے سب مراتب ِ خاص اس سے دور اور سلب ہو جائیں گے۔ (عین الفقر)
فقر اسلام کی حقیقی روح ہے۔ جس طرح روح کے بغیر جسم مردہ اور بیکار ہے اسی طرح اسلام فقر کے بغیر بے روح ہے۔ فقر کی مثال بادام کے مغز جیسی ہے جس کاظاہر شریعت ہے۔ فقر سورج کی مانند ہے، جس طرح سورج کی روشنی پودوں کو طاقت اور غذا مہیا کرتی ہے اور زمین کے ہر حصے کو روشن کرتی ہے اسی طرح فقر دین و شریعت کو روشن کرتا ہے۔ اس کے متعلق حضرت سخی سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

گر آفتاب گم شود عالم خراب
فقر فیض و فضل بخش آفتاب

ترجمہ: آفتاب اگر چھپ جائے تو سارے عالم میں خرابی آ جاتی ہے اور فقر وہ آفتاب ہے جو فیض و فضل بانٹتا ہے۔ (محک الفقر کلاں)
سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَ الْفَقْرُ مِنِّیْ
ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
اَلْفَقْرُ فَخْرِیْ وَ الْفَقْرُ مِنِّیْ فَافْتَخِرُّ بِہٖ عَلٰی سَائِرِ الْاَنْبِیَآءِ وَالْمُرْسَلِیْنَ.
ترجمہ:فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے اور فقر ہی کی بدولت مجھے تمام انبیا و مرسلین پر فضیلت حاصل ہے۔
اَلْفَقْرُ کَنْزٌ مِنْ کَنُوْزِ اللّٰہِ تَعَالٰی  
ترجمہ: فقر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔

فقر اولیا کرام کی تعلیمات کی روشنی میں

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ فقر کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
٭ فقر عین ذات ہے۔ (عین الفقر)
٭ فقر دراصل دیدارِ الٰہی کا علم ہے۔ (عین الفقر)
٭ جو شخص دیدارِ حق تعالیٰ چاہتا ہے وہ فقر اختیار کرے۔ (عین الفقر)
٭ جان لے کہ طلب ِ فقر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طلب ہے، صحابہ کرامؓ کی طلب ہے اور اولیا اللہ کی طلب ہے۔ (محک الفقر کلاں)
٭ تمام پیغمبروں نے فقر کے مرتبے کی التجا کی لیکن نہیں ملا صرف سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو حاصل ہوا جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی اُمت کے سپرد کیا۔ یہ فقر محمدیؐ محض فیض ہے۔ (امیر الکونین)
٭ فقر نورِ الٰہی سے پیدا ہوتا ہے کیونکہ تمام عالم کا ظہور نورِ فقر سے ہے، فقر ہدایت ہے، فقر نورِ حق کی ایک صورت ہے جو اس درجہ خوبصورت ہے کہ دونوں عالم اس کے شیدا اور اس پر فریفتہ ہیں مگر فقر کسی پر توجہ نہیں کرتا مگر حکمِ الٰہی اور حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ سلم کی اجازت سے۔ (توفیق الہدایت)
سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فقر کے متعلق بیان فرماتے ہیں:
٭ فقر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حقیقی وراثت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا حقیقی وارث وہی ہے جو اس وارثت کا وارث ہے۔
٭ فقر راہِ عشق ہے۔
٭ فقر دراصل اللہ تعالیٰ کے دیدار اور مجلس ِ محمدیؐ کی حضوری کا علم ہے۔
٭ فقر کی منزل پر دنیاوی ما ل و دولت، منصب و تکریم، شان و شوکت، آرام و آسائش، خواہشاتِ دنیا و عقبیٰ اور عزت و جان اللہ تعالیٰ کے عشق میں ختم ہو جاتے ہیں اور بندہ اللہ کی محبت میں دونوں جہانوں سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔
٭ اصل صراطِ مستقیم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں اور جو فقر کی منازل کو طے کرتا ہوا آپ ؐ کی مجلس میں پہنچ گیا اس نے صراطِ مستقیم کو پا لیا۔
٭ راہِ فقر میں تمام منازل و مقامات مرشد کامل اکمل کی نگاہ، باطنی توجہ، ذکر، تصور اسم ِ اللہ ذات اور مشق ِمرقومِ وجودیہ سے طے ہوتے ہیں اس کے علاوہ فقر کی انتہا تک پہنچے کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ (شمس الفقرا)
حضرت جنید بغدادیؒ فقر کے بارے میں فرماتے ہیں:
٭ فقر دل (باطن) کو توہمات (غیر اللہ)سے خالی رکھنے کانام ہے۔ (معالی الہمم)
٭ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاؒ فقر کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’فقر دنیا و آخرت سے فنا کی چابی ہے۔‘‘
٭ علامہ اقبال ؒ نے بھی اصل دین فقرکو قرار دیا۔ آپؒ کے نزدیک فقر حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی اصل میراث ہے۔
سلسلہ سروری قادری کے امام مجددِ دین مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقر کے متعلق فرماتے ہیں:
٭ فقر صبر ہے۔
٭ فقر قربانی ہے۔
٭ فقر رضائے الٰہی پر سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔
٭ فقر وہ راہ ہے جو بندے کو اللہ سے ملا دیتی ہے۔
٭ راہِ فقر میں ’’بڑا اجر‘‘ سے مراد اللہ کی ذات ہے۔
٭ فقر وہ مرتبہ ہے جہاں پر انسان ہر قسم کی حاجات سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اس کے مدِنظر رہتی ہے۔ اس لیے ہر حال میں تقدیرِ الٰہی سے موافقت اختیار کیے رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قرب کے سوا نہ وہ اللہ سے کچھ مانگتا ہے اور نہ اللہ کے غیر سے مطلب رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشا و رضا میں مداخلت کو گناہ سمجھتا ہے اس لیے قرب و حضور کے سوا کچھ نہیں مانگتا۔
ان سنہری اقوال سے معلوم ہوا کہ ’’فقر‘‘ دراصل دین ِ اسلام کی حقیقت ہے جو اولیا کرام اور ہمارے سلف صالحین کا اللہ تک رسائی کا طریقہ رہا ہے۔ لیکن دورِ جدید کہ علمائے سُو اور مغرب زدہ طبقہ نے اس طریق اور علم سے ناواقفیت کی بنا پر عوام الناس کی توجہ اس راہ سے ہٹا کر ظاہر پرستی کی طرف مبذول کرا دی ہے اور عوام روح اور اللہ کے تعلق کو بھلا کر صرف جسمانی اعمال اور ظاہری عبادات میں الجھ گئے ہیں۔ آج مسلمان بھی ’’فقر ‘‘اور اس کی حقیقت سے اتنے ہی ناآشنا ہیں جتنے غیر مسلم۔ حالانکہ ہمارے آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فقر کو اپنا فخر قرار دیا ہے۔ اللہ پاک نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حساب کمالات، خوبیوں اور اوصاف سے نوازا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا نہ صدق پر، نہ عدل پر، نہ تقویٰ پر، نہ سخاوت پر، نہ ترک و توکل پر اور نہ حسن پر۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے خود اپنی زبانِ مبارک سے فرمایا ’’میں اللہ کا حبیب ہوں لیکن اس پر فخر نہیں‘‘ اور مزید ارشاد فرمایا ’’فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے‘‘۔ مگر آج کا وہ مسلمان جو پانچ وقت نماز، رمضان کے روزوں اور ظاہری عبادات کو ہی مکمل مذہب سمجھتا ہے اور اپنی چھوٹی سی نیکی کے چرچے بھی کرتا رہتا ہے وہ روحِ اسلام ’’فقر‘‘ کو کیا جانے گا۔ جبکہ اس حقیقت کو آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا’’فقر دنیا میں مومن کے لیے (اللہ تعالیٰ کا) تحفہ ہے‘‘۔

فقر اور ارکانِ اسلام

راہِ فقر پر چل کر ہی دین اور شریعت کی حقیقت سمجھ آتی ہے۔ فقر نفس کے تمام حجابات دور کر کے اللہ کا قرب و دیدار پانے کی راہ ہے جس کے بعد ہر عبادت اس کی حقیقی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ بغیر قرب و دیدارِ الٰہی کے تمام عبادات بے لذت و بے روح ہیں۔ حق یہ ہے کہ ہر عبادت کا اصل مقصد اللہ کا قرب و دیدار حاصل کرنا ہے جو صرف راہِ فقر پر چل کر ہی حاصل ہو سکتا ہے۔
توحید اسلام کا بنیادی رکن ہے اور عام مسلمان کے لیے نہایت سادہ و آسان‘ مگر عارفین کے نزدیک اس کی حقیقت کچھ اور ہے۔ زبانی کلمہ پڑھنے والا مسلمان تو ہو سکتا ہے مگر مومن نہیں۔ زبان سے اقرار کرنا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں مگر دل میں مال و دولت، رشتے داروں اور اہل وعیال کی محبت رکھنا اصل ایمان نہیں۔ فقر ان سب سے منہ موڑ کراللہ کی طرف متوجہ ہو جانے اور زبان کے ساتھ ساتھ دل سے کلمہ طیبہ پڑھنے اور تصدیق کرنے کا نام ہے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا ’’میں اپنے ربّ کی اس وقت تک عبادت نہیں کرتا جب تک اسے دیکھ نہ لوں۔‘‘ جیسا کہ حدیث مبارکہ ہے: اَلصَّلٰوۃُ مِعْرَاجُ الْمُؤْمِنِیْنَ   ترجمہ: نماز مومنین کی معراج ہے۔
اس حدیث میں ’’مومن ‘‘کی نماز کا ذکر ہوا ہے نہ کہ مسلمان کی نماز کا۔ فقر ہی روحانی معراج حاصل کر کے مسلمان سے مومن بننے کا سفر ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ پاک نے فرمایا قَدۡاَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۱﴾ الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ ۙ﴿۲’’فلاح پا گئے وہ مومنین جو اپنی نماز خشوع (حضورِ قلب) سے ادا کرتے ہیں‘‘۔ حدیث ِمبارکہ ہے ’’نماز یوں اداکرو گویا کسی کو الوداع کہہ رہے ہو۔‘‘ یعنی اس نمازمیں اپنے آپ کو اپنے نفس سے الوداع کہہ رہے ہو بلکہ غیرحق جو کچھ بھی ہے اس کو الوداع کہہ رہے ہو تاکہ خود کو پوری طرح نماز میں لگا سکو۔ یہ کیفیت صرف راہِ فقر پر گامزن ہونے سے حاصل ہو سکتی ہے۔

اسی طرح مومن اور راہِ فقر کے راہی کے لیے فقر میں روزے کی حقیقت بھی مختلف ہے۔ روزہ محض سحر سے افطار تک بھوک اور شہوات پر قابو پانے کا نام نہیں ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان مبارک ہے ’’بہت سے روزے دار ایسے ہیں جنہیں روزہ سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دل دنیا کی محبت میں چور اور باطنی بیماریوں مثلاً تکبر، غرور، حسد، کینہ، بغض، خود پسندی وغیرہ سے بھرے پڑے ہیں۔ بھلا ان میں دیدارِ حق کا شوق کیسے پیدا ہو سکتا ہے؟ جبکہ اللہ پاک حدیث ِ قدسی میں فرماتا ہے: ترجمہ: ’’روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں۔‘‘

یہ صرف طالبانِ مولیٰ ہی ہیں جو قربِ الٰہی کی جزا کی خاطر صرف بھوک پیاس کی ہی نہیں بلکہ نفس کی ہر خواہش کی قربانی دے دیتے ہیں اور محض رمضان کے مہینے میں ہی نہیں بلکہ عمر بھر نفس پر قابو رکھتے ہیں یعنی ان کی تمام زندگی حالت ِ روزہ میں گزرتی ہے۔

اسی طرح حج کے بھی باطنی معنی الگ ہیں جو راہِ فقر پر چل کر ہی طالب پرعیاں ہوتے ہیں۔ حج کا مطلب یہ نہیں کہ حاجی بیت اللہ کا دیدار اور پتھروں کی زیارت کر کے گھر واپس آ جائے بلکہ یہ سفر خالصتاً اللہ کے لیے سفر کرنا ہے، طالب اپنا وقت، اپنا مال، اپنے اہل وعیال پیچھے چھوڑ کر وہاں پہنچتاہے جہاں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ ظاہری کعبہ میں جانے اور طواف کرنے سے پہلے باطن کے تمام بتوں کو توڑنا ضروری ہے، جمرات کے مقام پر ظاہری طور پر شیطان کو کنکریاں مارنے کے ساتھ ساتھ خواہشاتِ نفس اور اندر کے شیطان کو بھی مارنا ضروری ہے۔
فقر میں صرف رضائے الٰہی کی خاطر مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے نفس مرتا اور باطن پاکیزہ ہوتا ہے اور اس کی بہت فضیلت ہے۔ زکوٰۃکے لغوی معنی پاک ہونے کے ہیں۔ مال خرچ کرنے میں ہمیں صحابہ کرامؓ کی مثالیں سامنے رکھنی چاہئیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا دل دنیاسے اس طرح خالی تھا کہ ان کے پاس جو مال، اسباب اور غلام وغیرہ موجود تھے انہوں نے اللہ کی راہ میں دے دیئے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَا ذَا یُنۡفِقُوۡنَ ۬ؕ قُلِ الۡعَفۡوَؕ کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ  لَکُمُ الۡاٰیٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۱۹﴾ۙترجمہ: ’’اور لوگ آپؐ سے پوچھتے ہیں کہ (اللہ کی راہ میں) کتنا مال خرچ کریں۔ آپؐ فرما دیجئے جتنا (ضرورت سے) زائد ہو۔‘‘ (البقرہ۔219)

فقر اور اس کے حقیقی وارث

فقر ایک فیض ِ تربیت ہے۔ یہ ایک پاکیزہ جذبہ ہے اور یہ کسی فرقہ، جماعت یا خاندان کی میراث نہیں۔ یہ اللہ پاک کی عطا ہے جسے چاہے عطاکرے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ذٰلِکَ فَضۡلُ اللّٰہِ یُؤۡتِیۡہِ مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ  ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِیۡمِ ﴿۲۱ ترجمہ: ’’یہ فضل ہے اللہ تعالیٰ کا، عطا کرتاہے جسے چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ عظیم فضل کا مالک ہے۔‘‘

سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ، سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ، سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر سروری قادری مشائخ اپنے اپنے زمانوں میں فقر کی تعلیمات کو عام کرنے اور اس کا فیض عوام الناس میں پھیلانے کے لیے عمر بھر کوشاں رہے۔ موجودہ دورکے سروری قادری شیخ ِ کامل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فقر کو اس مادیت پرستی کے دور میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے دن رات تگ و دو کر رہے ہیں اور تمام تر دستیاب وسائل استعمال فرما رہے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فقر کو اپنی تصانیف، کردار اور تعلیماتِ فقر کے فروغ کے لیے کی جانے والی کاوشوں سے ظاہر کر کے دکھایا کہ آپ قدمِ محمدؐ پر فائز ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے ہر طالب کوشریعت پر چلنے کی تلقین فرماتے ہیں اور تلقین و ارشاد کے ذریعے فقر کا نور ہر طالب کے قلب میں منور فرما رہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ مدظلہ الاقدس کی ذات ہی فقر ہے۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک ہم سب کو راہِ فقر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

 
 

اپنا تبصرہ بھیجیں